ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 17:03
مہلتِ الٰہی؛ نعمت یا استدراج

حوزہ/اللہ تعالیٰ کی بندوں کے بارے میں ایک نہایت اہم اور اٹل سنت یہ ہے کہ وہ گمراہ لوگوں کو فوراً گرفت میں نہیں لیتا، بلکہ کبھی انہیں مہلت دیتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، دنیاوی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی اس ظاہری خوش حالی کو کامیابی اور اپنے انحراف کو کمال سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی استدراج ہے؛ یعنی انسان کو بتدریج، قدم بہ قدم، نعمتوں کی سیڑھی سے غفلت اور ہلاکت کی گہرائیوں کی طرف اتارا جانا۔

ترجمہ و تشریح: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| اللہ تعالیٰ کی بندوں کے بارے میں ایک نہایت اہم اور اٹل سنت یہ ہے کہ وہ گمراہ لوگوں کو فوراً گرفت میں نہیں لیتا، بلکہ کبھی انہیں مہلت دیتا ہے، ڈھیل دیتا ہے، دنیاوی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی اس ظاہری خوش حالی کو کامیابی اور اپنے انحراف کو کمال سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی استدراج ہے؛ یعنی انسان کو بتدریج، قدم بہ قدم، نعمتوں کی سیڑھی سے غفلت اور ہلاکت کی گہرائیوں کی طرف اتارا جانا۔

قرآنِ کریم اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَنُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ﴾اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں، بے شک میری تدبیر نہایت مضبوط ہے۔

یہ مہلت دراصل رحمت کا لباس پہنے ہوئے ایک آزمائش بھی ہوسکتی ہے، اور نعمت کے پردے میں ایک ایسی گرفت بھی، جس کا انجام انسان کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جب واپسی کا راستہ تنگ اور پشیمانی کا دروازہ بند ہوچکا ہوتا ہے۔

استدراج: نعمتوں کے پردے میں آزمائش

جب ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص جتنا زیادہ حق سے منحرف ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی دنیا اس پر کشادہ ہوتی جاتی ہے؛ جتنا زیادہ گناہ کرتا ہے، اتنی ہی اس کے وسائل میں فراوانی آتی جاتی ہے؛ جتنا ظلم بڑھاتا ہے، اتنی ہی ظاہری قوت اور اقتدار میں اضافہ ہوتا ہے، تو کمزور نگاہ رکھنے والے لوگ اس منظر سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہی کامیابی کا راستہ ہے!

وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہر کشادگی کامیابی نہیں ہوتی، ہر نعمت رضائے الٰہی کی علامت نہیں ہوتی، اور ہر مہلت امان نہیں ہوتی۔

بسا اوقات نعمتیں انسان کے لیے پھول نہیں، کانٹوں سے بھرا ہوا وہ راستہ ہوتی ہیں جس کے اختتام پر اچانک خندقِ ہلاکت منہ کھولے کھڑی ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب استدراج کی یہ حقیقت اجتماعی زندگی میں غلط طور پر سمجھی جانے لگے تو ایک خطرناک وبا جنم لیتی ہے۔ لوگ گناہ گار کو دیکھتے ہیں کہ وہ عیش میں ہے، ظالم کو دیکھتے ہیں کہ وہ تخت پر ہے، فاسق کو دیکھتے ہیں کہ اس کے گرد نعمتوں کا ہجوم ہے؛ تو وہ ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہوکر اسی راہ کے مسافر بننے کی آرزو کرنے لگتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ایک فرد کا استدراج، ایک معاشرتی فتنہ بن جاتا ہے۔

آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو اقتدار کے لیے ایک عجیب ہَوَس اور کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ لوگ اقتدار کیوں چاہتے ہیں؟

کیا اس لیے کہ وہ اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردیں؟

کیا اس لیے کہ مظلوم کی آواز بنیں، محروم کے زخم پر مرہم رکھیں، اور معاشرے میں عدل و انصاف کا چراغ روشن کریں؟

افسوس! اکثر صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

اقتدار خدمت کا منبر کم اور منافع و مفاد کی کشمکش زیادہ بن جاتا ہے، جس کے گرد ہر شخص اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے دوڑتا ہے۔ مقصد یہ نہیں رہتا کہ میں لوگوں کے لیے کیا کرسکتا ہوں، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ لوگوں سے میں کیا حاصل کرسکتا ہوں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست خدمت سے مفاد، اقتدار امانت سے غنیمت، اور ذمہ داری ہوسِ زر و منصب میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

قرآن کا آئینہ

اللہ تعالیٰ ایسے ظاہری عروج سے دھوکا کھانے سے صاف الفاظ میں خبردار فرماتا ہے:

﴿لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ ۝ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ﴾

"کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا اور ان کا ظاہری تصرف و اقتدار تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے!"

گویا قرآن ہمیں ظاہری منظر کے بجائے انجام کا منظر دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔

دنیا کے ایوانِ اقتدار آج بلند ہوں تو ضروری نہیں کہ کل بھی قائم رہیں۔ آج جس کے گرد نعمتوں کے قافلے رواں دواں ہیں، ضروری نہیں کہ کل وہی نعمتیں اس کے لیے نجات کا سامان بنیں۔ آج کا تاج کل خاک ہوسکتا ہے، آج کا تخت کل تختۂ عبرت بن سکتا ہے، اور آج کی مہلت کل حسرت کا عنوان بن سکتی ہے۔

دنیا کا چراغ اگر ایمان کے تیل سے خالی ہو تو اس کی روشنی کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، آخرکار دھواں بن کر آنکھوں کو جلاتی ہے۔

اصل کامیابی کیا ہے؟

لہٰذا اے اہلِ ایمان! کسی شخص کی کامیابی کا معیار اس کی دولت، اقتدار، شہرت اور ظاہری رفاہ نہیں؛ بلکہ اس کا اصل معیار اللہ کے نزدیک اس کا مقام، اس کا کردار، اس کا تقویٰ اور اس کا انجام ہے۔

نعمت ملے تو شکر کرو،

مہلت ملے تو توبہ کرو،

اقتدار ملے تو عدل کرو،

دولت ملے تو انفاق کرو،

اور اگر گناہ کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو سب سے پہلے اپنے دل کو ٹٹولو کہ کہیں یہ استدراج تو نہیں!

کیونکہ کبھی اللہ تعالیٰ انسان کو نعمت دے کر بلند کرتا ہے، اور کبھی اسی نعمت کے ذریعے اسے اس کی غفلت میں مزید دور تک جانے دیتا ہے۔

فرق صرف نگاہ کا ہے؛ ایک صاحبِ بصیرت نعمت میں امتحان دیکھتا ہے، جبکہ غافل نعمت میں اپنی فتح کا اعلان سمجھتا ہے۔

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری چمک سے مرعوب نہ ہوں، دنیا کے عارضی طلسم سے فریب نہ کھائیں، ظالم کی خوش حالی کو اس کی کامیابی نہ سمجھیں، اور گناہ گار کی مہلت کو اللہ کی رضا کی سند نہ قرار دیں۔

استدراج وہ خاموش زنجیر ہے جس کی جھنکار انسان کو سنائی نہیں دیتی، یہاں تک کہ وہ آزادی کے گمان میں قید ہوچکا ہوتا ہے۔

اور یہی قرآن کا پیغام ہے کہ دنیا کی مہلت کو آخرت کی نجات نہ سمجھو؛ کیونکہ کبھی مہلت، گرفت سے پہلے کی آخری فرصت ہوتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha